سادگی پسند

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - تصنع و بناوٹ سے دور بھاگنے والا، سادہ طبیعت۔ "اخگر مراد آبادی سادہ لوح اور سادگی پسند تھے۔"      ( ١٩٨١ء، آسماں کیسے کیسے، ٢١٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سادگی' کے ساتھ فارسی اسم 'پسند' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٨١ء سے "آسماں کیسے کیسے" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تصنع و بناوٹ سے دور بھاگنے والا، سادہ طبیعت۔ "اخگر مراد آبادی سادہ لوح اور سادگی پسند تھے۔"      ( ١٩٨١ء، آسماں کیسے کیسے، ٢١٠ )